News


یوم استحصال تقریب

Posted on 06 Aug, 2026 - Published by

یونیورسٹی آف تربت میں یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے تقریب کاانعقاد، کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، مقررین کا خطاب

 مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے خلاف اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ملک کی دیگر جامعات کی طرح یونیورسٹی آف تربت میں بھی 5 اگست 2026 کو یوم استحصال کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا۔ اس سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں تدریسی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا اور سنگین خلاف ورزی تھی۔ اس یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدام کو کشمیریوں، پاکستانیوں اور عالمی برادری نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ مقررین کا کہناتھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام پر ظلم و بربریت کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ بھارت کے اسی ناپاک اقدام اور غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف حکومت پاکستان نے 2020 سے 5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی تاریخی شناخت کو غصب کرنا ہی پورے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت اس بات کی مکمل  حمایت کرتی ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان کے اس مضبوط اور پائیدار موقف کی بدولت ہی امریکہ سمیت متعدد عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کر چکی ہیں۔