تربت یونیورسٹی: کیمپس بنا معاشی سرگرمیوں کامرکز،دوروزہ شاندار بزنس گالا کامیابی سے اختتام پذیر،تخلیق، ٹیکنالوجی اور ثقافت کا حسین امتزاج، خود روزگار کا پیغام طلبہ کا عزم
Posted on 15 Feb, 2026 - Published by
یونیورسٹی آف تربت میں آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن اور فیکلٹی ممبران کے تعاون سے منعقد ہونے والا دو روزہ شاندار بزنس گالا 2026 کامیابی کے ساتھ پرجوش انداز میں اختتام پذیر ہوگیا۔ 11 اور 12 فروری کو جاری رہنے والے اس میگا ایونٹ نے کیمپس کو جدت، انٹرپرینیورشپ، ثقافت اور تخلیقی سرگرمیوں کے دلکش منظر میں تبدیل کردیا، جہاں طلبہ، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔دو روز تک تربت یونیورسٹی کسی مصروف تجارتی ومعاشی مرکز کا منظر پیش کرتی رہی۔گالا میں 93 اسٹالز لگائے گئے تھے۔فوڈ اسٹالز، بک اسٹالز، آرٹ و کلچرل نمائش، دستکاری اور سائنس و ٹیکنالوجی کے نمائش نے شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کرایا۔ میگا ایونٹ میں سمال انڈسٹریز، ٹیلی کام کمپنیوں اور مختلف مقامی کاروباری اداروں نے بھی اپنے اسٹالز سجائے، جبکہ سماجی آگاہی سیشنز، تخلیقی مقابلے اور موسیقی کے پروگراموں نے گالا کی رونق کو چار چاند لگا دیے۔گالا میں گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج تربت کے جی سی ای ای فوڈ اسٹال نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ تربت یونیورسٹی کے گپ شپ و چائے اسٹال نے دوسری اور آر ایس آئی میوزیکل بینڈ نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ جیوری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق بادینی نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ٹیموں کا اعلان کیا۔بزنس گالا کے دوران 45لاکھ روپے سے زائد کا ریکارڈ بزنس ہوا، جو نہ صرف طلبہ کی کاروباری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ یونیورسٹی میں فروغ پانے والی انٹرپرینیورشپ کلچر کی کامیابی کا واضح ثبوت بھی ہے۔ متعدد اسٹال منتظمین نے اعلان کیا کہ وہ حاصل ہونے والا منافع تربت یونیورسٹی میں زیرتعلیم غریب اور مستحق طلبہ کی فیس کی ادائیگی کے لیے عطیہ کریں گے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے مختلف فیکلٹیز کے ڈینز،تدریسی اور انتظامی شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، انتظامی افسران اور کاروباری شخصیات کے ہمراہ اسٹالز کامعائنہ کیا اور طلبہ کی تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ ایسے ایونٹس کا مقصد طلبہ کی پوشیدہ کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انٹرپرینیورشپ کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی طلبہ کو محض ڈگری تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ انہیں مارکیٹ کی عملی ضروریات، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا چاہتی ہے۔پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد کا کہناتھا کہ ہمارا ہدف ایسے باصلاحیت نوجوان تیار کرنا ہے جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکریوں کے متلاشی بننے کے بجائے خود روزگار کے مواقع پیدا کرسکیں اور ملکی معیشت میں فعال کردار ادا کریں۔آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر اور گالا کے کنوینئر ڈاکٹر محمد یاسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صنعت اور یونیورسٹی کے درمیان روابط کو مزید بڑھانے کے لیے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے میگا ایونٹس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے، تاکہ طلبہ کو انٹرن شپ، اسٹارٹ اپس اور کاروباری مواقع میسر آسکیں۔وائس چانسلر نے اس کامیاب میگا ایونٹ کےانعقاد پر ڈاکٹر محمد یاسین اور ان کی ٹیم، فیکلٹی ممبران، رضاکاروں، جیوری ممبران، انتظامی عملے اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے شہریوں، کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان، تعلیمی اور مختلف اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے گالامیں بھرپور شرکت کر کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔شرکاء نے بزنس گالا کو مقامی مصنوعات، ثقافت اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ کلاس روم سے باہر عملی طور پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کا یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوا جس سے ان کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسٹال منتظمین اورگالاآرگنائزر کے علاوہ رضاکاروں اور شرکاءمیں تعریفی سرٹیفکیٹس اور شیلڈز تقسیم کیں۔




























