یونیورسٹی آف تربت میں اہم اجلاس؛ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ساتھیوں کی فوری و محفوظ رہائی کا مطالبہ
Posted on 16 May, 2026 - Published by
تربت 15مئی 2026) یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر اور یونیورسٹی آف تربت کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، لیکچرار ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے تناظر میں 15 مئی 2026 کو یونیورسٹی آف تربت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کی، جبکہ فیکلٹی ممبران، انتظامی افسران اور طلبہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں واقعے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر سمیت جامعہ گوادر کے چاروں عملے کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان، بالخصوص مکران ڈویژن میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈاکٹر سید منظور احمد اور ڈاکٹر ارشاد بلیدی کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ایسے ممتاز اور قابل احترام اساتذہ، محققین اور ماہرین تعلیم کسی بھی معاشرے اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ علمی و تدریسی شخصیات کو نشانہ بنانا نہ صرف ایک افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے بلکہ یہ بلوچستان کو تعلیم، تحقیق اور فکری ترقی کے عمل میں پیچھے دھکیلنے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اجلاس کے شرکاء کا کہناتھا کہ اس قسم کے واقعات سے صوبے کے تعلیمی اور سماجی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اجلاس کے شرکاء نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھیوں کی فوری، محفوظ اور باعزت بازیابی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں اساتذہ، محققین اور دیگر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ درس و تدریس جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد کا احترام اور تحفظ ہر مہذب معاشرے کے ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے، کیونکہ اساتذہ ہی قوموں اور معاشروں کے اصل معمار ہوتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے متاثرہ خاندانوں اور گوادر یونیورسٹی کے عملے کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پرزور اپیل کی کہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھیوں کو انسانی ہمدردی کے بنیاد پر فوری طور پر بحفاظت رہا کیا جائے۔










