جامعہ تربت میں "پاکستان میں وفاقیت، صوبائی تنظیم نو اور گورننس کا مستقبل "کے عنوان پر علمی مباحثے کا انعقاد
Posted on 30 Sep, 2026 - Published by
تربت (29 ستمبر 2026) جامعہ تربت میں شعبہ سیاسیات، شعبہ قانون، ینگ پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ کورپس اور ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے باہمی اشتراک سے پاکستان میں وفاقیت، صوبائی تنظیم نو اور گورننس کا مستقبل کے عنوان پر ایک فکری و علمی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز چاکر حیدر نے انجام دیے۔

نشست میں فیکلٹی آف لاء کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین اور شعبہ سیاسیات کے چیئرپرسن چنگیز احمد نے بطور مرکزی مقررین شرکت کی۔ اس موقع پر رجسٹرار گنگزار بلوچ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ اس علمی مباحثے میں وفاقی ساخت، نئے صوبوں کے قیام اور آئینی و انتظامی ڈھانچے پر منطقی اور تعمیری گفتگو کی گئی۔ یہ علمی نشست یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2030 کے تحت اسٹوڈنٹ کلبز اورسوسائیٹیز کو فعال بنانے اور طلبہ میں تنقیدی سوچ کے ساتھ ساتھ دلیل کی بنیاد پر گفتگو کی صلاحیت پیدا کرنے کی ایک کڑی تھی۔ اس کے علاوہ اس علمی مباحثے میں وفاقی نظام حکومت کی تاریخی پس منظر، آئین سازی اور مرکز و صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
شرکاء نے زور دیا کہ مضبوط اداروں،آزاد عدلیہ، انتظامی شفافیت اور بااختیار مقامی حکومتوں کے بغیر عام شہری کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ مباحثے کے دوران یہ سوال بھی خاص طور پر زیرِ بحث رہا کہ آیا نئے صوبوں کا قیام عوامی مسائل کا پائیدار حل ہے یا اس سے مزید معاشی و انتظامی پیچیدگیاں جنم لیں گی۔ سوال و جواب سیشن کے دوران شرکاء نے ون یونٹ، این ایف سی ایوارڈ، 18ویں ترمیم اور نئے صوبوں کے سیاسی و معاشی اثرات سے متعلق سوالات کئے جن کے مقررین نے تسلی بخش اور علمی جوابات دیے۔











