News


صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت یونیورسٹیز فنانس کمیشن کا اجلااس، جامعات کیلئے مختص 8ارب روپے کی تقسیم کے طریقہ کار پر تفصیلی غور

Posted on 30 Sep, 2026 - Published by

صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت یونیورسٹیز فنانس کمیشن کا اجلاس 28 ستمبر 2026 کو کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، سیکرٹری کالجز ہاشم غلزئی اور صوبے کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز و نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے جامعات کو مختص کیے گئے 8 ارب روپے کے فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار اور مجوزہ فارمولے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے کی مختلف جامعات کو درپیش مالی مسائل اور ضروریات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سمیت دیگر جامعات کے وائس چانسلرز نے یونیورسٹیز فنانس کمیشن کے فورم پر اپنی جامعات کو درپیش مالی مشکلات اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔

 اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے یقین دہانی کرائی کہ جامعات کے مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ امور کو حکام بالا کے نوٹس میں لایا جائے گا اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کیے جائیں گے۔ اجلاس میں جامعات کے نمائندگان نے تنخواہوں اور پنشن کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر خزانہ، یونیورسٹیز فنانس کمیشن اور حکومت بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔ترجمان جامعہ تربت کے مطابق اجلاس کے دوران جامعہ تربت کے  وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے یونیورسٹی کی مجموعی پیش رفت، صوبائی حکومت کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں اور مالی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے جامعہ تربت اسٹریٹجک پلان 2030 کے بنیادی اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے سینئر فیکلٹی، انتظامی اور آئینی عہدوں کی طویل عدم تعیناتی سے پیدا ہونے والے تدریسی و انتظامی چیلنجز سے آگاہ کیا۔ وائس چانسلر نے زور دیا کہ ان آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر فوری طور پر کرنا نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ایکریڈیٹیشن کونسلز کے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ بلوچستان یونیورسٹی ایکٹ 2022 کے تحت گڈ گورننس کے قیام اور یونیورسٹی کی پائیدار ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔