News


ڈیجیٹل دور میں علم، برداشت اور تنقیدی سوچ کے ذریعے انتہاپسندی اورتشددکے خاتمے کے موضوع پر تربت یونیورسٹی میں علمی وفکری سیشن کا انعقاد

Posted on 20 Feb, 2026 - Published by

یونیورسٹی آف تربت نے  ڈیجیٹل دور میں جیو اور جینے دو، تنقیدی سوچ اور علم کے ذریعے انتہاپسندی کے خاتمے کے موضوع پر18فروری2026 کو ایک فکری سیشن کی میزبانی کی۔ اس  سیشن میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید وسیم یوسف نے ویڈیو لنک کے ذریعے بطور مہمان مقرر خطاب کیا، جبکہ تربت  یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔سیشن  میں  تربت یونیورسٹی  کے طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام اور انتظامی افسران کے علاوہ جامعہ گوادر، مکران یونیورسٹی اور لسبیلہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اساتذہ نے بھی اپنی اپنی جامعات سے آن لائن شرکت کی۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر معید وسیم یوسف نے تربت یونیورسٹی سمیت مکران کی جامعات کے اساتذہ اور طلبہ کے علمی معیار، تنقیدی سوچ اور تحقیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان، بالخصوص مکران کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا طالب علم ایک عام شہری نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اپنی فکر، مہارت اور علم کو آئندہ نسلوں، معاشرے اور سسٹم تک منتقل کرتا ہے، جس سے پورا معاشرہ مستفید ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور انتظامیہ کا کردار محض تدریس تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں طلبہ کے لیے رول ماڈل بننا چاہیے۔ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی فکری رہنمائی اس انداز سے کریں کہ وہ اچھائی اور برائی میں فرق کرسکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ علم کو معاشرے تک منتقل کرنا، معلومات کو حقیقی علم میں تبدیل کرنا، تنقیدی سوچ کو فروغ دینا اور تحقیق و دریافت پر توجہ دینا یونیورسٹیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے ذریعے کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ ترقی کے لیے صبر، برداشت اور اختلاف رائے کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق طلبہ مستقبل کے لیڈر ہوتے ہیں اگر وہ تنقیدی سوچ رکھنے والے فرد یا بزنس لیڈر یا سیاسی یا سماجی لیڈر بننا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت  پیداکریں۔ اختلاف رائے ہر فرد کا حق ہے، تاہم اپنی رائے کا دفاع دلیل اور استدلال کے ساتھ کرنا ہی ایک تعلیم یافتہ ذہن کی پہچان ہے۔ رول آف لاء کو نقصان پہنچانا، جذبات میں آکر توڑ پھوڑ کرنا کسی مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے کی علامت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اور معاشرے کو ایک دوسرے  سے سچ بولناچاہیے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جدید ٹیکنالوجی نے جہاں سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں بعض پیچیدگیاں بھی پیدا کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم، برداشت اور تنقیدی سوچ کے ذریعے انتہاپسندی، تشدداور گمراہ کن معلومات کا موثر انداز میں تدارک کیا جاسکتا ہے، اور اس ضمن میں یونیورسٹیوں کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ وہی معاشرے کو باشعور، باخبر اور باصلاحیت نوجوان فراہم کرتی ہیں جو ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں۔اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے مہمان مقرر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تربت یونیورسٹی سمیت مکران کی دیگر جامعات کے اساتذہ و طلبہ کے ساتھ اس فکری سیشن میں شرکت کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف تربت اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے مابین تحقیق، اساتذہ و طلبہ کے تبادلہ پروگرام اور باہمی دلچسپی کے شعبہ جات میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا، جس پر ڈاکٹر معید وسیم یوسف نے  اتفاق کیا۔بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے پیشکش کی کہ اگر یونیورسٹی آف تربت کے طلبہ ایک سمسٹر بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں گزارنا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اس پر وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

سیشن  کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں تربت یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔