News


گورنربلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کی تربت یونیورسٹی میں معیاری اعلی تعلیم، سکل ڈویلپمنٹ کورسز اور مقامی معیشت کے فروغ کے لئے جامع حکمت عملی بنانےکی ہدایت

Posted on 26 Mar, 2026 - Published by

[تربت] گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بحیثیت گورنر انہوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران مکران ڈویژن کی تینوں جامعات کے متعدد دورے کیے، مختلف کانووکیشنز میں شرکت کی اور یونیورسٹی آف تربت کے سینیٹ اجلاسوں کی خود صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مسلسل کاوشوں، موثر نگرانی اور مربوط حکمت عملی کے نتیجے میں مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امرخوش آئند ہے کہ تربت یونیورسٹی کی رینکنگ 69 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ادارے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا مظہر ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹی کے سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنے اور روایتی بجلی کے نظام کو سولر انرجی پر منتقل کرنے  پر وائس چانسلر اور ان کی ٹیم خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے  25مارچ 2026کوگورنر ہاوس کوئٹہ میں تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئےکیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ مارکیٹ کی جدید ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکل ڈویلپمنٹ پر مبنی مختصر دورانیے کے کورسز متعارف کرائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے تربت کی مقامی معیشت میں کھجور کی پیداوار کے کلیدی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کھجور کی نئی اقسام متعارف کروانے اور عالمی معیار کے مطابق پیکیجنگ کی تربیت فراہم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں اعلی تعلیم کے فروغ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے اورساتھ ہی یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے ابھرتے ہوئے نوجوان اپنے اساتذہ کرام اور تعلیمی اداروں کابہت احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ اساتذہ کے احترام کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وائس چانسلر کا عہدہ ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے، لہذا ضروری ہے کہ وہ اپنے منصب اور تمام دستیاب وسائل کو ادارے اور اس سے منسلک علاقوں کی ترقی اور بہتری کے لیے موثر انداز میں بروئے کار لائیں۔گورنر بلوچستان نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی آف تربت میں طالبات کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو ایک مثبت سماجی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں بہترین کارکردگی کی بدولت تربت یونیورسٹی بہت جلد ملک کی صف اول کی جامعات میں شامل ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ٹیم ورک کو مزیدبہتربنانا ناگزیر ہے۔اس سے قبل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے گورنر بلوچستان کو یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی اور موجودہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کے تناظر میں اختیار کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے میں کفایت شعاری، توانائی کے موثر استعمال، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور تعلیمی سرگرمیوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دی جارہی ہے۔ملاقات کے دوران آن لائن کلاسز کے اجراء کے لئے دستیاب وسائل اور درپیش چیلنجزاورڈیجیٹل لرننگ کے فروغ کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر بلوچستان نے موجودہ غیر معمولی حالات میں حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے یونیورسٹی آف تربت کی سنجیدہ کاوشوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ان کو ہرممکن سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔